ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تحریری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر اپنے رویے سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بار بار خلاف ورزیوں نے ایک بنیادی حقیقت واضح کر دی ہے کہ امریکی صدر کے دستخط بالکل بے وقعت ہیں اور ان کی کوئی ساکھ نہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ جبر، آمرانہ طرزِ عمل اور ظلم امریکا کی پالیسی اور نظریے کا لازمی حصہ ہیں، جب کہ وعدہ خلافی اور بداعتمادی اس کی خارجہ پالیسی کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں واشنگٹن کو مزید بھاری قیمت اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور محاذِ مزاحمت نے امریکا کے لیے ایسے سبق تیار کر رکھے ہیں جنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
انہوں نے اس موقع پر ایرانی عوام اور حکام پر زور دیا کہ وہ قومی اتحاد کو برقرار رکھیں اور اختلافات سے گریز کرتے ہوئے ملک کی خودمختاری، وقار اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی سب سے اہم ضرورت ہے اور ایرانی عوام کو اپنی قیادت پر اعتماد برقرار رکھنا چاہیے۔
BREAKING: Iran’s Supreme Leader Ayatollah Seyyed Mojtaba Khamenei has issued a written statement, following the recent round of clashes between Iran and the United States :
— The Observer Lens (@TheObserverLens) July 18, 2026
“The Great Satan’s repeated violations of the memorandum of understanding signed between the Presidents of…
اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد تہران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدوں کی خلاف ورزی اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، جب کہ واشنگٹن تہران کے اقدامات پر مسلسل تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔







