دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی کانگریس کی ایک اہم ڈیڈ لائن کا سامنا ہے، جس نے واشنگٹن میں اختیارات کے استعمال پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ جنگ کے لیے کانگریس سے اجازت لینے کی مدت جنگ بندی کے باعث مؤثر طور پر رک چکی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی دشمنی 7 اپریل کی جنگ بندی کے بعد عملی طور پر ختم ہو گئی تھی کیونکہ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔ تاہم ایرانی قیادت اس موقف سے اختلاف کرتی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بیان میں امریکہ کی ’شرمناک شکست‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس بحران میں برتر پوزیشن پر ہے اور اس کا کنٹرول خلیج اور آبنائے ہرمز پر مضبوط ہے۔ انہوں نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ خطے میں مداخلت کرنے والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور تیل کی قیمتیں کئی برسوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال نے توانائی کی عالمی سپلائی کو متاثر کیا ہے، جبکہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس سے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنائی جا سکے۔
ادھر خطے میں کشیدگی صرف ایران تک محدود نہیں رہی۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ بحران نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔






