صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اگر چاہے تو ایران کو اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایران میں جو کچھ باقی رہ گیا ہے اسے بھی ایک گھنٹے کے اندر تباہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو ایران کبھی بھی اپنے ملک کو دوبارہ تعمیر کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ مجھے ایران کی حمایت یافتہ کسی ممکنہ کارروائی سے امریکا کی سرزمین پر حملوں کا خدشہ نہیں ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا نے تیل کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ خلیج میں واقع آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل جاری رکھیں، حالانکہ ایران کی جانب سے اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے عالمی رہنماؤں کے اجلاس گروپ آف سیون کے دوران کیے گئے فیصلوں کو بھی سراہا۔ اس اجلاس کی صدارت فرانسیسی صدر میکرون نے کی، جس میں ایران کے خلاف جنگ اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات پر گفتگو کی گئی۔
ٹرمپ نے کہا کہ دنیا پر ان فیصلوں کے غیر معمولی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ان کا اثر عالمی سطح پر واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اجلاس کے بعد انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے 40 کروڑ بیرل تیل ذخائر سے جاری کرنے کی سفارش بھی کی، جو اس ادارے کی تاریخ کا سب سے بڑا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر ایک الگ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جب چاہیں ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کر سکتے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے اندر اب عملی طور پر نشانہ بنانے کے لیے بہت کم اہداف باقی رہ گئے ہیں۔ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے اور جب وہ چاہیں گے اسے ختم کر دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: حملے میں ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زخمی، اسرائیل کا دعویٰ
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا ابتدائی منصوبہ چار سے چھ ہفتوں پر مشتمل تھا، جس میں ایران کے میزائل پروگرام، بحریہ اور جوہری صلاحیت کو ختم کرنا اور اس کے اتحادی گروہوں کو کمزور کرنا شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن مقررہ وقت سے آگے بڑھ رہا ہے، تاہم جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ایران مکمل اور غیر مشروط طور پر ہتھیار نہ ڈال دے۔
کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بالآخر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی کریں گے کہ ایران اب امریکا کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں رہا۔







