غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ویب سائٹ دی نیو ریپبلک نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جون میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک ثالث کے ذریعے جے ڈی وینس کو خفیہ پیغام بھیجا۔

رپورٹ کے مطابق اس پیغام میں خبردار کیا گیا کہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کی مذاکراتی عمل میں شمولیت 17 جون کے فریم ورک کو مستقل معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ دونوں شخصیات مذاکرات کے دوران حاصل ہونے والی اندرونی معلومات کو مالیاتی منڈیوں میں غیر قانونی مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے الزام عائد کیا کہ جیرڈ کشنر مذاکرات کی اندرونی تفصیلات بار بار اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو تک پہنچا رہے ہیں۔ ایرانی حکام کے اندازے کے مطابق اس مبینہ اندرونی معلومات کے غلط استعمال سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کی مالیت جون تک 9 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی پیغام کبھی امریکی حکومت تک نہیں پہنچا۔ ان کے مطابق یہ رپورٹ ایران کے من گھڑت مؤقف کی عکاسی کرتی ہے اور اس میں کیے گئے تمام دعوے بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں۔