ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں اس لیے تیار کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جارح کو ایران پر حملے کے خیال سے باز رکھا جا سکے اور یہ ایسا معاملہ نہیں جس پر بات چیت کی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف اسرائیل کو بلا روک ٹوک جدید اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے، جب کہ دوسری جانب ایران کے میزائل پروگرام کو خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، جو دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی ٹی وی نیٹ ورک این بی سی نے دو روز قبل اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ ایران بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے، جس کے باعث وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک منصوبہ پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے آپشنز پر بات کی جا سکے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل ان یورینیم افزودگی کی تنصیبات کی بحالی پر بھی تشویش رکھتا ہے جو ماضی میں امریکی حملوں کا نشانہ بنی تھیں، تاہم اسرائیلی حکام کی فوری توجہ ایران کے میزائل پروگرام اور فضائی دفاعی نظام کی بحالی پر مرکوز ہے، جو 12 روزہ جنگ کے دوران بڑی حد تک ناکارہ ہو گیا تھا۔

دوسری جانب گزشتہ روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ماسکو کے دورے کے دوران آر ٹی نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تہران کسی نئے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا اور اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، بلکہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیاری رکھتا ہے۔

عباس عراقچی نے زور دیا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم وہ ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے کیونکہ ان کے بقول جنگ کو روکنے کا سب سے مؤثر طریقہ اس کے لیے مکمل تیاری رکھنا ہے۔