غیر ملکی میڈیا کے مطابق یو اے ای کے صدارتی مشیر  انور قرقاش کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی نئے جنگی مرحلے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے نہ صرف خطے بلکہ یورپ پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوں گے، جب کہ یورپ کو آبنائے ہرمز کے معاملے کو اپنی توانائی اور تجارت سے جڑا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔

انور قرقاش نے کہا کہ سفارتی راستہ تلاش کرنا نہایت اہم ہے، تاہم ایسا سفارتی حل نہیں ہونا چاہیے جو مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی حل چاہتے ہیں، لیکن خدشہ ہے کہ کوئی کمزور سیاسی حل خطے میں مزید مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

صدارتی مشیر کا کہنا تھا کہ ایرانی نیوکلیئر پروگرام پہلے ہماری دوسری یا تیسری بڑی تشویش تھا، تاہم اب یہ پہلی ترجیحی تشویش بن چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنے پاس موجود ہر ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انور قرقاش نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کسی بھی قومی دفاعی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں اور امریکا ہر خلیجی ملک کے لیے پہلے سے زیادہ مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات گزشتہ تین برس سے اوپیک چھوڑنے کے امکان پر غور کر رہا تھا۔