غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اپنے ایک بیان میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی اور فوجی صورتحال نے خطے کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے، اور اب اسرائیل کو ایران کے اتحادی گروپوں کی جانب سے درپیش خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے کے اہم ممالک کے ساتھ ایک نئے اتحاد کی تشکیل پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے اس اتحاد میں شامل ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کے اتحادیوں کی قوت میں کمی آئی ہے، لیکن خود ایران اب بھی اسرائیل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ وہ ڈرونز اور بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آئندہ دو سے تین ہفتوں میں جنگی صورتحال سے باہر نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کارروائی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا، اور امریکا اس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے اب سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: اتحادی ممالک آبنائے ہرمز جا کر خود تیل حاصل کریں، امریکا اب ہر کسی کی مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ

تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت کے بعد ایک نئے علاقائی بلاک کی تشکیل کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جہاں ایک جانب ایران اور اس کے اتحادی ہیں، جبکہ دوسری جانب اسرائیل اور ممکنہ طور پر چند عرب و مغربی ممالک پر مشتمل اتحاد سامنے آسکتا ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک عرصے سے جاری ہے، تاہم حالیہ بیانات نے خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی اور عسکری منظرنامے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔