سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ لبنان میں اسرائیل کی دوبارہ دراندازی ابتدائی جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل دھوکہ دہی اور ممکنہ معاہدوں سے عدم وابستگی کی خطرناک علامت ہے۔
مسعود پیزشکیان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی کارروائیوں کا تسلسل مذاکرات کو بے معنی بنا دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے ہاتھ بھی ٹریگر پر رہیں گے اور وہ اپنے لبنانی بہن بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔
Renewed aggression by the Zionist regime against Lebanon blatantly violates the initial ceasefire. Such actions signal deception and non-compliance, rendering negotiations meaningless. Our hands remain on the trigger. Iran will never forsake its Lebanese brothers and sisters. https://t.co/T3Wy3qBqcE
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) April 9, 2026
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ لبنان کے خلاف صہیونی ریاست کی بار بار جارحیت نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ممکنہ معاہدوں کے لیے بھی ایک منفی اور تشویشناک پیغام ہے۔







