سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ لبنان میں اسرائیل کی دوبارہ دراندازی ابتدائی جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل دھوکہ دہی اور ممکنہ معاہدوں سے عدم وابستگی کی خطرناک علامت ہے۔

مسعود پیزشکیان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی کارروائیوں کا تسلسل مذاکرات کو بے معنی بنا دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے ہاتھ بھی ٹریگر پر رہیں گے اور وہ اپنے لبنانی بہن بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ لبنان کے خلاف صہیونی ریاست کی بار بار جارحیت نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ممکنہ معاہدوں کے لیے بھی ایک منفی اور تشویشناک پیغام ہے۔