سینٹکام کے مطابق یہ ناکہ بندی رواں ماہ کے آغاز میں شروع کی گئی تھی اور اس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ جنگ بندی اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات پر آمادہ ہو۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران اس ناکہ بندی کو اپنی خودمختاری اور معاشی مفادات کے خلاف اقدام قرار دے چکا ہے جب کہ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔