میڈیا اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد خلیجی خطے کے اہم ہوائی اڈے، جن میں دبئی، ابوظہبی اور دوحہ شامل ہیں، یا تو بند رہے یا سخت پابندیوں کے تحت کام کرتے رہے۔ اسی دوران ایران، عراق، کویت، اسرائیل، بحرین، متحدہ عرب امارات اور قطر کی فضائی حدود میں پروازوں کی آمد و رفت تقریباً معطل رہی۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار چوبیس کے نقشے کے مطابق ایرانی فضائی حدود کم از کم 3 مارچ کو 0830 جی ایم ٹی تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ ایران کی جانب سے جوابی حملوں کے بعد دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ابوظہبی و کویت کے ہوائی اڈوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
اس صورتحال کے نتیجے میں ایشیا اور یورپ کے مسافروں کو شدید مشکلات پیش آئیں۔ بالی، انڈونیشیا کے آئی گستِی نگوراہ رائے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسافروں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں، جبکہ ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال بین الاقوامی ہوائی اڈے اور کٹھمنڈو کے تریبھوون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازیں منسوخ ہونے سے متعدد افراد پھنس گئے۔
📰 Major Middle East airports suspend operations after US-Israel attack on Iran. Emirates, Qatar Airways, Etihad cancel flights. Airspace closed in Iran, Iraq, Qatar, others.
— FYNX | Smart Finance News (@FynxNews) March 1, 2026
Download Fynx App: https://t.co/Aa6nZ3kRIF
#Flights #Airports #MiddleEast #Iran #Travel pic.twitter.com/0VMk4hH8Lf
دبئی اور دوحہ یورپ اور ایشیا کے درمیان طویل فاصلے کی پروازوں کے بڑے مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی بندش کے باعث طیارے اور عملہ غیر متوقع طور پر مختلف مقامات پر رک گئے، جس سے عالمی پروازوں کا نظام الاوقات متاثر ہوا۔ مزید یہ کہ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی فضائی کمپنیوں نے بند یا محدود فضائی حدود سے بچنے کے لیے پروازیں منسوخ کیں یا متبادل راستے اختیار کیے، جس سے سفر کا دورانیہ اور ایندھن کے اخراجات بڑھ گئے۔
فلائٹ ریڈار چوبیس کے مواصلاتی ڈائریکٹر ایان پیٹچنک نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کسی قسم کی کشیدگی پیدا ہوئی اور فضائی حدود بند ہوئیں تو یورپ اور ایشیا کے درمیان فضائی سفر شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایئر انڈیا نے دہلی، ممبئی اور امرتسر سے یورپ اور شمالی امریکہ جانے والی اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جس سے مسافروں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ اور عالمی فضائی آمد و رفت میں مزید خلل پیدا ہو گیا ہے۔







