انہوں نے توانائی کے بلوں میں کمی، اجرتوں میں اضافے، مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے تفصیلی اقدامات کا اعلان کیا، طویل مدتی قومی مفاد کے لیے یورپی اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ضروری ہیں تاکہ برطانیہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط کھڑا رہے۔
توانائی کے بڑھتے ہوئے مسائل پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت قابلِ تجدید توانائی کے فروغ پر زور دے رہی ہے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے توانائی کی قیمتیں جولائی تک مقرر کر دی گئی ہیں، جس سے بلوں میں کمی آئے گی اور عوام غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہیں کریں گے۔
مزید برآں، وزیراعظم نے نیشنل لیونگ ویج میں اضافے کا اعلان کیا، جس سے لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچے گا اور تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار بچوں کو غربت سے نکالنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی قانون سازی کی بھی یقین دہانی کروائی، جسے ایک نسل میں سب سے بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کی حکومت پہلے ہی صاف توانائی اور ماحولیاتی سرمایہ کاری کے لیے اقدامات کر چکی ہے اور مستقبل میں بھی یہی پالیسی جاری رکھی جائے گی تاکہ ملک کو توانائی کے جھٹکوں سے محفوظ رکھا جا سکے اور معیشت مضبوط رہے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ آنے والے ہفتوں میں یورپی اتحادیوں کے ساتھ ایک نیا سمٹ بھی منعقد کیا جائے گا، جس میں گزشتہ وعدوں کی توثیق کے ساتھ مستقبل میں تعاون اور مفادات کے حوالے سے نئے اقدامات بھی سامنے لائے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: معاہدہ ہو نہ ہو، ایران سے ’بہت جلد‘ نکل جائیں گے، آج رات اہم خطاب کروں گا: ڈونلڈ ٹرمپ
تیل پر محصولات (Fuel Duty) کے حوالے سے فیصلوں کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے تاکہ عوام کے مفاد کو یقینی بنایا جا سکے اور معیشت میں استحکام قائم رہے۔ برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کے عوام اور مستقبل کی نسلوں کے لیے تحمل، منصوبہ بندی اور پالیسی کی مسلسل نگرانی ضروری ہے تاکہ عالمی اور داخلی چیلنجز کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ واضح اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور برطانیہ نے اپنی خارجہ پالیسی میں اپنے قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے، ساتھ ہی عوامی فلاح و بہبود اور معاشی استحکام پر بھی بھرپور توجہ مرکوز کی گئی ہے۔







