امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم نائب صدر جے ڈی وینس کا مؤقف ہے کہ کسی بھی عسکری اقدام سے قبل سیاسی اور سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو۔

ایک امریکی اخبار نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تاحال ایران کے خلاف حملوں سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، اگرچہ موجودہ صورتحال میں ان کا جھکاؤ فوجی کارروائی کی جانب دکھائی دیتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صدر کا مؤقف وقت اور حالات کے مطابق تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے کی طرح ٹرمپ کا بھی وہ ہی انجام ہوگا، ایرانی سپریم لیڈر

کچھ امریکی حکام کے مطابق اس بات کا بھی امکان ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے محدود نوعیت کی فوجی کارروائی کی منظوری دیں اور اس کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھولا جائے۔ وائٹ ہاؤس میں اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور قومی سلامتی سے متعلق مشیروں کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے۔

امریکی میڈیا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی پیشکش کا جائزہ لے رہا تھا، تاہم اسی دوران صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دینے پر سنجیدگی سے غور کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ مبصرین کے مطابق آئندہ چند روز میں امریکی پالیسی کی سمت واضح ہونے کا امکان ہے۔