امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک بڑے حملے کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ممکنہ کارروائی کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، اسی لیے فیصلہ انتہائی احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب دو امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی امریکی فوج کو اس حوالے سے کوئی نئے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل فوری طور پر کسی نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے لیے امریکا کو کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل حملوں میں شریک ہوا تو ایران کی جانب سے جوابی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے بقول ایرانی قیادت نے حالیہ سفارتی تجاویز قبول نہیں کیں کیونکہ ابھی انہیں کافی نقصان نہیں پہنچا۔

یاد رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی تیل کی ترسیل کے ایک اہم راستے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر خبردار کیا تھا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں دوبارہ تجارتی جہازوں پر حملے کیے تو امریکا اس کی ذمہ داری ایران پر عائد کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ حوثی ایران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں، اس لیے کسی بھی نئی کارروائی کی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔