فرانس میں جی-7 اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم 10 سینٹ بھی نہیں دے رہے۔ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا اور نہ ہی ہمارا کوئی فنڈ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا خلیجی ممالک سے بھی ایران میں سرمایہ کاری کا مطالبہ نہیں کر رہا، تاہم اگر وہ ایسا کرنا چاہیں تو یہ ان کا فیصلہ ہوگا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں خلیجی ممالک فوری طور پر ایسا نہیں کریں گے اور پہلے ایران کے رویے کا جائزہ لیں گے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا موجودہ فریم ورک کوئی حتمی معاہدہ نہیں بلکہ صرف ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ہے۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ابھی حتمی نہیں ہے۔ اگر مجھے یہ پسند نہ آیا یا ایران نے مناسب رویہ اختیار نہ کیا تو ہم دوبارہ حملوں اور بمباری کی طرف جا سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرے تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک کو  انتہائی مضبوط  قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ابھی معاہدے کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے نہیں آئیں، تاہم اس کے اثرات عالمی منڈیوں میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں تیزی آئی ہے جب کہ تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، جو اس معاہدے پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اظہار ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز آئندہ ایک یا دو روز میں مکمل طور پر بحال ہو جائے گی، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آ جائے گی۔

مزید پڑھیں: امریکا کا اسرائیل کو ایران کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات بتانے سے انکار

جوہری پروگرام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ انہیں 99.99 فیصد یقین ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کی 2015 کے جوہری معاہدے  پر بھی شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ اوباما انتظامیہ نے ایران کو 1.7 ارب ڈالر نقد رقم دے کر معاہدہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ موجودہ مفاہمت کے لیے کسی قسم کی مالی رعایت یا  رشوت  کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ سخت مؤقف اور فوجی دباؤ کے ذریعے مذاکرات کو آگے بڑھایا۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدہ تاحال طے نہیں پایا، جب کہ آئندہ ہفتوں میں جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور خطے کی سکیورٹی سے متعلق اہم معاملات پر مزید مذاکرات متوقع ہیں۔