فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران سے رابطے میں ہے اور سفارتی راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہوں اور فوجی کارروائی سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کر چکے ہیں اور مزید مذاکرات کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ براہِ راست ایران سے بات کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’’میں بات کر چکا ہوں اور آئندہ بھی بات کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘

اس سے قبل امریکی صدر خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کے لیے وقت ختم ہوتا جا رہا ہے، جبکہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑا بحری بیڑا بھی روانہ کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ پر بننے والی دستاویزی فلم کے پریمیئر کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہمارا ایک گروپ ایران کی جانب جا رہا ہے اور امید ہے کہ ہمیں اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘

دوسری جانب واشنگٹن اور برسلز کی جانب سے رواں ہفتے بیانات میں سختی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ ایران نے بھی امریکی اقدامات کے جواب میں سخت ردعمل دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فریقین پر زور دیا ہے کہ جوہری مذاکرات کو ترجیح دی جائے تاکہ خطے کو ایک بڑے بحران سے بچایا جا سکے، جس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

ایران کی جانب سے ایک فوجی ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی کارروائی کا جواب فوری، فیصلہ کن اور محدود نہیں ہوگا۔ ایرانی حکام نے گذشتہ سال جون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا تھا۔

ایرانی بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو میں کہا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں میں سنگین کمزوریاں موجود ہیں اور خلیجی خطے میں قائم متعدد امریکی فوجی اڈے ایران کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی زد میں ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے کوئی غلط اندازہ لگایا تو حالات اس طرح نہیں ہوں گے جیسا صدر ٹرمپ تصور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی ایسا آپریشن نہیں ہوگا جس کے بعد چند گھنٹوں میں کامیابی کا اعلان کر دیا جائے۔

خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے حوالے سے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے خدشات انتہائی واضح ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کسی بھی کارروائی سے پورا خطہ افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑیں گے، اور تیل و گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال مذاکرات یا تصادم، کسی بھی رخ اختیار کر سکتی ہے۔