برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق رافیل گروسی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں تو خدشہ ہے کہ ایران کے خلاف طاقت کا دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے افزودگی کا عمل جاری رکھا توایران کے پاس اتنا مواد ہو گا جس سے تقریباً دس جوہری بم تیار کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فی الحال ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایٹمی پروگرام کی شفاف نگرانی کے لیے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ایران جانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں کیوں یقین ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں ہے، تو گروسی نے جواب دیا کہ اسرائیلی حملوں سے قبل آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے متعلقہ مقامات کا دورہ کیا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اب ہم سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر ممالک کی معلومات کی مدد سے ان سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں، اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ فی الحال ایران کا جوہری ارادہ نظر نہیں آتا۔
یاد رہے کہ رواں سال جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو کافی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ایران کے مطابق، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے فتوے کے تحت جوہری ہتھیاروں کی تیاری مذہبی طور پر حرام ہے۔
ادھر یورپی یونین اور امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کے ثبوت کے طور پر بین الاقوامی معائنہ کاروں کو دوبارہ تنصیبات کا دورہ کرنے کی اجازت دے۔
فی الحال آئی اے ای اے کا کوئی بھی معائنہ کار ایران میں موجود نہیں، جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی پابندیوں کے نفاذ کے بعد معائنہ کاروں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔






