میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ ایران میں امریکی آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ ان کے مطابق اب تک 11 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مزید دباؤ ڈالنے کی صلاحیت حاصل ہوئی ہے اور ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آ چکی ہے، جب کہ امریکی کارروائی میں ایران کی بحریہ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور 150 سے زائد جہاز تباہ کیے گئے، جن میں بڑے جنگی جہازوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
Press Secretary Karoline Leavitt Briefs Members of the Media, Mar. 30, 2026 https://t.co/OFGtNr6mJB
— The White House (@WhiteHouse) March 30, 2026
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے مؤخر کر دیا ہے تاکہ سفارتی حل کا موقع دیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا موقع ہے کہ ایرانی حکومت امریکا کے ساتھ ایک بہتر معاہدہ کرے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے یہ موقع ضائع کیا تو امریکی فوج ہر ممکن کارروائی کے لیے تیار ہے اور ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، ایرانی حکام کی جانب سے مذاکرات کی تردید کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ رابطے اور بات چیت جاری ہے۔ کیرولین لیویٹ نے کہا کہ نجی سطح پر ہونے والی بات چیت اکثر عوامی بیانات سے مختلف ہوتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مذاکرات میں شامل افراد جوابدہ ہوں، جب کہ ان کے بقول موجودہ رابطوں میں شامل افراد ماضی کے مقابلے میں زیادہ معقول دکھائی دیتے ہیں۔
Reporter: “I know President Trump says we re ahead of schedule... He laid out, 4-6 week time table for this conflict, and we re now within week 5. How do you square kind of those two?”
— RedWave Press (@RedWavePress) March 30, 2026
White House Press Secretary Karoline Leavitt: “Well, 4-6 weeks, estimated timeline you just… pic.twitter.com/tjYkxJb7Lu
ایران میں جاری آپریشن کے دورانیے سے متعلق انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ یہ کارروائیاں تقریباً چار سے چھ ہفتے جاری رہ سکتی ہیں اور موجودہ صورتحال بھی اسی اندازے کے مطابق ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکا کے بنیادی اہداف میں ایران کی بحریہ اور بیلسٹک میزائل صلاحیت کو محدود کرنا، دفاعی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل ہے، جب کہ آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
ایران میں ممکنہ زمینی افواج کی تعیناتی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق پینٹاگون کا کام صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے۔
کانگریس کی منظوری سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ہمیشہ قانون کی پاسداری کرے گی اور صدر کو کانگریس کا احترام حاصل ہے۔
Reporter: The president posted this morning. He said we might blow up and completely obliterate all of their generating electric plants, oil wells, Kharg Island, and possibly all desalination plants. Under international law, striking infrastructure is generally prohibited. Why is… pic.twitter.com/tREoCYJIAj
— RedWave Press (@RedWavePress) March 30, 2026
ایک اور سوال پر جس میں ایران کے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے سے متعلق بات کی گئی، کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکا کی مسلح افواج ہر کارروائی قانون کے دائرے میں رہ کر انجام دیتی ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید وضاحت نہیں دی گئی۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق انہوں نے کہا کہ صدر اپنے طے کردہ اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں، جب کہ پینٹاگون کا کردار ضروری عسکری طاقت فراہم کرنا ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام تر صورتحال کے باوجود سفارت کاری اب بھی صدر ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہے۔






