امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس کوئی موقع نہیں۔ انہوں نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی فوج، بحریہ، فضائیہ اور قیادت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کو بری طرح شکست دی ہے اور اب ایران کے پاس صرف مشین گن سے لیس چھوٹی کشتیوں تک محدود صلاحیت رہ گئی ہے۔

یہ بیان آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائی کے بعد سامنے آیا، جس میں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے ایران کی سات تیز رفتار چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اوول آفس میں گفتگو کے دوران انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران نے جنگ کا آغاز 159 جہازوں کے ساتھ کیا تھا، لیکن اب ان کے مطابق ایران کا کوئی بھی جہاز سمندر میں موجود نہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکا یہ کارروائی نہ کرتا تو ایران جوہری طاقت بن چکا ہوتا۔ ان کے بقول ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

سیز فائر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران جانتا ہے اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔

ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ کوئی بھی ایرانی جہاز ناکہ بندی توڑنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ایک جہاز نے نکلنے کی کوشش کی تو وارننگ کے بعد اس کے انجن کو نشانہ بنایا گیا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر امریکا جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ بہتر معاہدوں پر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے چین کے دورے کے دوران چینی صدر  شی جنپنگ سے ملاقات میں مثبت پیش رفت کی توقع رکھتے ہیں۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مؤثر ثابت ہو رہی ہے اور ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ کھیل کھیلتے ہیں، لیکن میں آپ کو بتا دوں کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔