امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیغامات کے تبادلے کو روکنے کے فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس وقت کا انتظار کرے گا جب ایران امریکی شرائط کے مطابق معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہونے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو انہیں اس پر کوئی تشویش نہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر آپ سچ سننا چاہتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ ہم بہت زیادہ باتیں کرتے ہیں، جبکہ بعض اوقات خاموشی بہتر ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے پیغامات کے تبادلے کی معطلی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکا دوبارہ بھرپور فوجی کارروائیاں شروع کر دے گا یا ایران پر بمباری کا سلسلہ بحال کر دے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا خاموشی اختیار کرے گا، تاہم ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھے گا۔ ان کے بقول یہ ناکہ بندی آہنی نوعیت کی ہے۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق لبنان میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی حملوں کے باعث ایرانی مذاکراتی وفد نے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل کر دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق اس کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، اس وقت تک کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔