علی لاریجانی نے ٹرمپ کے بیان کو ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا یہ طرزِ عمل نہ صرف اشتعال انگیز ہے بلکہ ایرانی عوام کے خلاف سازش کا تسلسل بھی ہے۔ ایران میں خونریزی اور عدم استحکام کے اصل ذمہ دار وہی عالمی قوتیں ہیں جو برسوں سے پابندیوں، دباؤ اور بیرونی مداخلت کے ذریعے ایرانی عوام کو نشانہ بناتی آ رہی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دیے گئے بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے ایرانی عوام کو احتجاج جاری رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ قاتلوں اور ظالموں کے نام محفوظ کرلو، وہ بھاری قیمت چکائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں اعلان کیا کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے باعث انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ممکنہ ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ایرانی محبِ وطنو! احتجاج جاری رکھو، اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھالو، مدد آ رہی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب تک مظاہرین کا بے مقصد قتل بند نہیں ہوتا، وہ ایرانی حکام سے کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں کریں گے اور انہوں نے آخر میں میک ایران گریٹ اگین کا نعرہ بھی استعمال کیا۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے قبل مذاکرات کو ترجیح دی جائے، نائب امریکی صدر
یاد رہے کہ اتوار کے روز ٹرمپ نے یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ ایرانی حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور اس حوالے سے رابطے بھی ہوئے ہیں، تاہم دو دن بعد جاری ہونے والے بیان میں انہوں نے مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارت کاری سودمند نہیں۔
ایران میں جاری مظاہروں نے معاشی شکایات سے جنم لیا تھا، جو بعد ازاں سیاسی مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔ صورتحال پر عالمی سطح پر ردعمل سامنے آ رہا ہے، جب کہ تہران نے امریکی بیانات کو نفسیاتی جنگ اور ریاستی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔







