سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا عوامی سطح پر، یعنی میڈیا کے سامنے، مذاکرات نہیں کرے گا۔ اورٹاگس نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی دور میں تہران کی طرف سفارت کاری کا ہاتھ بڑھایا۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے زور دیا کہ ان کا ملک اصولوں پر مبنی سفارت کاری اور حقیقی مذاکرات کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ فرانس، برطانیہ اور امریکا پر منحصر ہے کہ وہ اپنا راستہ تبدیل کریں اور اعتماد کی بحالی کے لیے ٹھوس اور قابلِ بھروسہ اقدامات اٹھائیں۔