ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چھ ہفتے قبل انہوں نے جنگ بندی کے لیے آپریشن ایپک فیوری معطل کیا تھا، لیکن اب تک جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

انہوں نے کہا کہ اس ہفتے وہ مزید حملوں کا حکم دینے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم مذاکرات کو مزید وقت دینے کے لیے فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔

امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے معاملے میں آخری مراحل میں ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر ہم کچھ ایسے اقدامات کریں گے جو نسبتاً سخت ہوں گے، تاہم امید ہے کہ ایسا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس عمل کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔ میں جلد بازی میں نہیں ہوں۔ میری خواہش ہے کہ کم سے کم لوگ ہلاک ہوں۔ ہم یہ معاملہ دونوں طریقوں سے حل کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب تہران نے ڈونلڈ ٹرمپ پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی سازش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں مشرق وسطیٰ سے باہر بھی ردعمل دیا جا سکتا ہے۔

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران کے خلاف جارحیت دہرائی گئی تو اس بار متوقع علاقائی جنگ خطے سے باہر بھی پھیل سکتی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ دشمن کی کھلی اور خفیہ کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ امریکا نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔