ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کے مقام سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز مختلف ذرائع سے جاری کی گئی ہیں، جن میں ان کی آخری آرام گاہ کی جھلکیاں دکھائی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان مواد کے سامنے آنے کے بعد صارفین کی جانب سے بھی مختلف ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی قبر کی تصاویر اور ویڈیوز ایرانی خبر رساں اداروں سمیت بعض ایرانی قونصل خانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی شیئر کی گئی ہیں۔ فارس نیوز ایجنسی اور بھارتی شہر حیدرآباد میں ایرانی قونصل خانے کی جانب سے بھی ایسی تصاویر اور ویڈیوز جاری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ان کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ ایرانی ذرائع کے مطابق جنازے کے اجتماعات میں لاکھوں افراد شریک ہوئے اور مختلف شہروں میں تعزیتی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے جسد خاکی کو تہران سے قم اور بعد ازاں عراق کے مقدس شہروں کربلا اور نجف بھی لے جایا گیا، جہاں مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔ بعد میں جسد خاکی کو واپس ایران لایا گیا اور مشہد میں سپرد خاک کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
مزید پڑھیں: شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مشہد میں روضہ حضرت امام رضا کے احاطے میں سپردخاک
آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے طویل عرصے تک سپریم لیڈر رہے اور ملک کی سیاسی و مذہبی پالیسیوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی وفات کے بعد ایران میں سیاسی اور مذہبی حلقوں میں مختلف سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت کو اہمیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے مرحوم رہنما کے لیے تعزیتی پیغامات اور خراج عقیدت کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ ان کے حامی ان کی خدمات اور سیاسی کردار کو اجاگر کر رہے ہیں۔







