صدر ٹرمپ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری بیڑے اور لڑاکا طیاروں کی نمایاں تعیناتی کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں،مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم ایران کو قابلِ قبول اور بامعنی معاہدے کی طرف آنا ہوگا۔

دوسری جانب ایران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ پہل کرتے ہوئے جنگ نہیں چھیڑے گا، لیکن اگر اس پر جارحیت مسلط کی گئی تو بھرپور اور متناسب ردعمل دیا جائے گا۔ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ خطے میں موجود مخالف قوتوں کے اڈے اور اہم تنصیبات ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔

بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ روس نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل ماضی میں ایران کی بعض جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اپنے دفاعی یا علاقائی مؤقف پر سمجھوتا نہیں کرے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند روز اس کشیدہ صورتحال میں نہایت اہم ہوں گے اور خطے کی سلامتی کا انحصار سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔