صدر ٹرمپ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری بیڑے اور لڑاکا طیاروں کی نمایاں تعیناتی کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں،مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم ایران کو قابلِ قبول اور بامعنی معاہدے کی طرف آنا ہوگا۔
Trump threatens Iran, asks for deal in 15 days
— WION (@WIONews) February 20, 2026
Netanyahu warns Tehran, says any attack will see retaliation@JyotsnaKumar13 has more details pic.twitter.com/6PSKFv8FAg
دوسری جانب ایران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ پہل کرتے ہوئے جنگ نہیں چھیڑے گا، لیکن اگر اس پر جارحیت مسلط کی گئی تو بھرپور اور متناسب ردعمل دیا جائے گا۔ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ خطے میں موجود مخالف قوتوں کے اڈے اور اہم تنصیبات ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ روس نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل ماضی میں ایران کی بعض جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اپنے دفاعی یا علاقائی مؤقف پر سمجھوتا نہیں کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند روز اس کشیدہ صورتحال میں نہایت اہم ہوں گے اور خطے کی سلامتی کا انحصار سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔







