ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ امریکا کا جواب موصول ہو چکا ہے اور اب اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جب کہ ایرانی 14 نکاتی تجاویز میں جوہری معاملہ شامل نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تجاویز اضافی تفصیلات فراہم کیے بغیر صرف جنگ کے خاتمے کو مدنظر رکھ کر پیش کی گئی تھیں، جن کا مقصد ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا خاتمہ ہے۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ جوہری معاملہ ان 14 نکات کا حصہ نہیں تھا اور بعض میڈیا اداروں کی جانب سے اس حوالے سے کی جانے والی رپورٹنگ محض قیاس آرائی پر مبنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے 15 سال کے لیے جوہری سرگرمیاں ترک کرنے یا آبنائے ہرمز میں امریکا کے ساتھ مل کر بارودی سرنگیں ہٹانے سے متعلق میڈیا رپورٹس بے بنیاد ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کی سفارتی اور سیکیورٹی کوششیں اس وقت خطے میں، بالخصوص لبنان میں، جارحیت کے خاتمے پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ایران کی تمام تر توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے اور جوہری معاملات پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

آبنائے ہرمز سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکا نے 14 نکات پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے دے دیا ہے، جس کا ایران میں جائزہ جاری ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران پر دوبارہ حملوں کے امکانات موجود ہیں اور ایران کو اپنے اقدامات کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی ممکنہ ڈیل کی تجاویز سے آگاہ کیا گیا ہے، تاہم ان کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ پیشکش قابلِ قبول ہو سکتی ہے یا نہیں۔