ایرانی نیم فوجی تنظیم اسلامی انقلاب گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران پر مزید حملے کیے گئے تو امریکی اور اسرائیلی کمپنیوں کے دفاتر، ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر اور معاشی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

بیان میں خاص طور پر عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں گوگل اور مائیکروسافٹ کا نام لیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کے کلاؤڈ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں موجود ہیں اور یہ ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔

آئی آر جی سی نے مزید خبردار کیا کہ خطے میں ایسے معاشی مراکز اور بینک جو امریکا اور اسرائیل سے وابستہ ہیں، انہیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکام نے عوام کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے قریب غیر ضروری طور پر موجود نہ رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

ایرانی فوج کی مشترکہ کمانڈ خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ حالیہ حملوں میں ایران کے ایک بینک کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایران کو سخت ردعمل دینے پر مجبور ہونا پڑا ہے، دشمن کی کارروائیوں نے خطے میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ معاشی اور مالیاتی مفادات کو ہدف بنانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی ایران کے شہر علی گودرز میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی ایران میں ایک ڈرون یونٹ کی لانچ سائٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد ایرانی فوجی مارے گئے۔

ادھر ایرانی صوبے اصفہان کے گورنر نے بتایا کہ گزشتہ شب ہونے والی بمباری کے نتیجے میں علاقے میں شدید تباہی ہوئی اور بعض حملوں میں تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے مقامات کو بھی نقصان پہنچا۔

مزید پڑھیں: ایران نے سیکیورٹی کیمروں کو ہیک کر لیا، اسرائیل کا دعویٰ

خطے کے دیگر ممالک میں بھی کشیدگی کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 5 زخمی ہوئے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں ایئرپورٹ کے قریب دو ڈرون گرنے کے باعث 4 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

واضع رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن رہی ہے بلکہ عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اگر صورتحال مزید بگڑی تو سائبر اور معاشی اہداف پر حملوں کے خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔