بحرین کی وزارتِ داخلہ نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی معاندانہ اور مجرمانہ کارروائیوں سے ہمدردی رکھنے اور ان کی تعریف کرنے والوں کی بحرینی شہریت منسوخ کی جا رہی ہے۔ بیان کے مطابق اب تک اس فیصلے کے تحت، زیرِ کفالت اہلِ خانہ سمیت کُل 69 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ بحرین میں، ایران کی طرح آبادی کی اکثریت شیعہ مسلک سے ہےاور تنازع کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے حق میں مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے۔
حکام نے مظاہرین اور مظاہروں کی ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں، اور درجنوں افراد پر سوشل میڈیا کے غلط استعمال، اشتعال انگیزی، نفرت پھیلانے اور غداری جیسے الزامات عائد کیے۔ ان جرائم میں سزائے موت تک دی جا سکتی ہے۔
یہ ملک خلیج کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں ایسے قوانین موجود ہیں جو بعض جرائم میں سزا پانے والے افراد کی شہریت ختم کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ افراد بے وطن بھی ہو سکتے ہیں۔
بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر میں اس نوعیت کے اقدامات پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین اختلافِ رائے کو دبانے اور ناقدین کو سزا دینے کے لیے بطور جبر کے آلے استعمال کیے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ بحرین اُن ممالک میں شامل ہے جنہوں نے جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے متعلق معلومات کو سختی سے کنٹرول کیا۔ حکام نے مقامی اور غیر ملکی اُن افراد کو بھی گرفتار کیا جنہوں نے ان حملوں کی ویڈیوز بنائیں۔







