عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 88 سینٹ اضافے کے بعد 85.83 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 94 سینٹ اضافے کے ساتھ 80.54 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
مالیاتی ادارے ایکسنس کے مارکیٹ اسٹریٹجسٹ وائل مکارم کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں بیک وقت رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی سپلائی چین پر شدید دباؤ پڑے گا، آئل ٹینکرز کی دستیابی کم ہو جائے گی اور شپنگ انشورنس کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے حوثی تحریک کو ہدایت دی ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی پاور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو باب المندب کو بند کرنے کی تیاری رکھے۔ اس پیش رفت کو عالمی توانائی کی رسد کے لیے ایک نئے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جون کے دوران باب المندب سے روزانہ تقریباً 74 لاکھ بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزریں، جو عالمی یومیہ تیل پیداوار کا تقریباً 7 فیصد بنتی ہیں۔
ادھر امریکا نے بدھ کے روز ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد ایرانی ساحلی دفاعی تنصیبات اور میزائل مقامات پر حملے کیے، جب کہ تہران نے خبردار کیا کہ وہ خطے سے توانائی کی برآمدات مزید محدود کر سکتا ہے اور موجودہ صورتحال کو امریکا کے خلاف "وجود کی جنگ" قرار دیا۔
یہ کشیدگی جون میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ جنگ سے قبل عالمی تیل اور ایل این جی تجارت کا تقریباً 20 فیصد اسی بحری راستے سے گزرتا تھا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف زمینی کارروائی پر غور کر رہی ہے: امریکی میڈیا کا دعویٰ
مارکیٹ تجزیہ کار اولے ہوالبیے کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں مسلسل رکاوٹیں برقرار رہیں تو خام تیل کی قیمتیں 90 سے 95 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جب کہ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح بھی دوبارہ دیکھی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب آکسفورڈ اکنامکس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں محدود مگر غیر یقینی آمدورفت جاری رہی تو آنے والے کئی ماہ تک عالمی منڈی میں خام تیل کی اوسط قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔
ادھر یوکرین کی سیکیورٹی سروس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحریہ کے تعاون سے بحیرہ اسود میں روس کے دو مبینہ شیڈو فلیٹ آئل ٹینکرز کو بحری ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔







