امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال نہ کیا گیا تو ایران کے پاور پلانٹس کو "تباہ" کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی تنصیبات پر حملہ پورے خطے کے اہم انفراسٹرکچر کی "ناقابلِ واپسی تباہی" کا سبب بن سکتا ہے۔

اتوار کی صبح اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے جب ایران کی جانب سے میزائل حملے کیے گئے، جن میں جنوبی شہر اراد اور دیمونا شامل ہیں۔ ان حملوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد اسرائیل نے تہران پر جوابی کارروائی کی تصدیق کی۔

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، جو دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔

ماہرین کے مطابق، خلیجی ممالک اپنی پانی کی ضروریات کے لیے سمندری پانی کو صاف کرنے کے نظام پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے کسی بھی حملے کی صورت میں نہ صرف توانائی بلکہ پینے کے پانی کا شدید بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ جنگ، جو 28 فروری سے جاری ہے، اب تک 2 ہزار سے زائد جانیں لے چکی ہے اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے۔