فلوریڈا سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران کی تجویز کے بارے میں بریف کیا گیا ہے، تاہم ابھی اس کی مکمل تفصیلات کا انتظار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ’غلط رویہ‘ اختیار کیا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے انہوں نے کوئی حتمی مؤقف دینے سے گریز کیا۔

دوسری جانب ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ اب یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا محاذ آرائی جاری رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے دونوں صورتوں کے لیے تیار ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی ہیں، جن میں مرحلہ وار مذاکرات کی بات کی گئی ہے۔ اس تجویز کے تحت پہلے جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کی بحالی، جبکہ جوہری پروگرام پر بات چیت بعد میں کرنے کی تجویز شامل ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کی پیشکش پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں اور مذاکرات میں تعطل کی ایک وجہ ایرانی قیادت کے اندر اختلافات کو قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ تقریباً پانچ ہفتے بعد جنگ بندی پر پہنچی تھی، جس میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک دور ہوا، تاہم وہ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا، جبکہ دوسرا دور تاحال منعقد نہیں ہو سکا۔

اس وقت آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی ناکہ بندی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔