امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران ایران سے جاری کشیدگی، فوجی حکمتِ عملی اور آئندہ کے ممکنہ اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنرل ڈین کین نے اجلاس کے دوران واضح کیا کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف دوبارہ وسیع فضائی اور میزائل حملے کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے، تاہم ایسی کارروائیوں سے امریکی سینٹرل کمان کے زیرِ استعمال انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں، جس کے باعث مستقبل میں خطے میں امریکی دفاعی تیاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ عسکری قیادت نے حکومت کو آگاہ کیا کہ طویل فوجی مہم صرف ایران ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات اور دفاعی صلاحیت پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، اس لیے آئندہ فیصلے انتہائی احتیاط سے کیے جانے چاہییں۔

دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعے کو ایران پر جاری فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ فیصلہ مختصر وقفے کے لیے ہے یا مستقل جنگ بندی کی جانب پیش رفت، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران سفارتی کوششوں کو موقع دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کے خلاف جنگ میں مزید وسعت پیدا کرنے کے حوالے سے احتیاط برتنے کی رائے دی، جبکہ عسکری قیادت نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران پر کیے گئے حملوں کے بعض نتائج امریکی اندازوں سے مختلف سامنے آئے ہیں،  بیرونی دباؤ نے ایران کے اندر سیاسی اور عوامی سطح پر اتحاد کو تقویت دی ہے، جبکہ ایرانی قیادت نے داخلی اختلافات کے بجائے بیرونی خطرات پر زیادہ توجہ مرکوز کر لی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق حملوں میں عارضی وقفہ عمان کی سفارتی کوششوں کے باعث بھی کیا گیا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عمانی حکام نے ایران کا دورہ کیا جہاں ممکنہ مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔

مزید پڑھیں: ایران کا اسرائیل پر کوئی بھی حملہ  بہت بڑی غلطی  ہو گا، نیتن یاہو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے اور انہیں مزید وسیع کرنے کا اختیار موجود ہے، تاہم ان کے بقول بہتر حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ مسئلے کا حل مذاکرات اور کسی ممکنہ معاہدے کے ذریعے تلاش کیا جائے۔

دوسری جانب ایران نے بھی امریکا کے خلاف اپنی جوابی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ان کے ڈرونز اور میزائلوں نے امریکی فوجی اہداف کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جبکہ امریکی دفاعی نظام انہیں روکنے میں مکمل کامیاب نہیں ہو سکا۔

برطانوی میڈیا سے گفتگو کرنے والے ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت تک مزید حملوں سے گریز کرے گا جب تک امریکا بھی اپنی فوجی کارروائیاں معطل رکھے گا، تاہم تہران اب بھی واشنگٹن کے ارادوں پر مکمل اعتماد نہیں کرتا۔

ایرانی ذرائع نے مزید کہا کہ موجودہ وقفے کو مکمل جنگ بندی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک عارضی اور حکمتِ عملی پر مبنی فیصلہ ہے، جبکہ ایران کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ کسی بھی نئے حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، خطے میں کشیدگی اگرچہ وقتی طور پر کم دکھائی دے رہی ہے، لیکن صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ تبدیل ہو سکتی ہے۔