خبررساں اداروں کے مطابق اپنے بیان میں ابو عبیدہ نے کہا کہ دشمن جو کچھ ٹینکوں اور غزہ میں نسل کشی کے ذریعے حاصل نہیں کرسکا اسے مذاکرات اور سیاست کے ذریعے بھی  حاصل نہیں کر سکے گا۔

ابوعبیدہ  نے خبردار کیا کہ مسجد الاقصیٰ اور فلسطینی قیدیوں کو نشانہ بنانے کے نتائج صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں ایک بڑے تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

ابو عبیدہ نے کہا کہ ایران، لبنان اور یمن کے مجاہدین کی جانب سے کیے گئے حملے غزہ سے شروع ہونے والے طوفان الاقصیٰ کا تسلسل ہیں جس نے دشمن کی ناقابلِ شکست ہونے کی تصویر کو توڑ دیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کارروائیاں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور اس کے کمزور ڈھانچے کے انہدام کا باعث بنیں گی۔

ابو عبیدہ نے شام اور اس کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہائیوں سے فلسطینی مزاحمت اور مہاجرین کو پناہ دی اور آج بھی ملک بھر میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایک دن وہ مسجد الاقصیٰ کے صحن میں امتِ مسلمہ کے آزاد لوگوں کے ساتھ جمع ہوں گے۔

بیان کے اختتام پر ابو عبیدہ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے خطے کے ممالک اور عوام کے خلاف بڑھتی ہوئی جارحیت اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے انجام کے قریب پہنچ رہا ہے اور یہ کہ یہ جارحیت اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔