بظاہر دونوں رہنما خطے کی سلامتی، ایران، لبنان اور اسرائیل کی سکیورٹی پر تبادلہ خیال کریں گے، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ پالیسی سے زیادہ دونوں رہنماؤں کے سیاسی مستقبل، باہمی اختلافات اور مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ حکمت عملی پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔

نیتن یاہو کا دورۂ واشنگٹن کیوں اہم ہے؟

یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد نیتن یاہو کی پہلی باضابطہ ملاقات ہے۔ اگرچہ وہ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی یادگاری تقریب میں شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچے ہیں، لیکن اصل توجہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات پر مرکوز ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو اس موقع پر ٹرمپ کی سیاسی حمایت بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ اسرائیل میں اکتوبر میں انتخابات متوقع ہیں اور ان کی جماعت کو سخت سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایران؛ سب سے اہم ایجنڈا

وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق ملاقات میں سب سے اہم موضوع ایران ہوگا۔

امریکا اور اسرائیل رواں برس ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کر چکے ہیں، تاہم اب دونوں ممالک کی حکمت عملی میں اختلافات نمایاں ہو رہے ہیں۔

اختلاف کہاں ہے؟

امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی نہ کسی سفارتی معاہدے یا جنگ بندی کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، جب کہ نیتن یاہو ایران پر مسلسل دباؤ اور مزید فوجی کارروائیوں کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نیتن یاہو اس ملاقات میں ایک مرتبہ پھر ایران میں  ریجیم چینج  یا حکومت کی تبدیلی کا معاملہ اٹھا سکتے ہیں، لیکن امکان کم ہے کہ ٹرمپ اس تجویز کی حمایت کریں۔

کیا امریکا اور اسرائیل ایک ہی صفحے پر ہیں؟

کچھ عرصہ قبل تک ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ایک دوسرے کا قریبی ترین اتحادی سمجھا جاتا تھا، لیکن حالیہ مہینوں میں کئی معاملات پر دونوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک موقع پر نیتن یاہو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں غیر ضروری فوجی کارروائیوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا۔

ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکا میں غیر مقبول ہو چکی ہے اور سفارتی حل تلاش کرنا ضروری ہے، جب کہ نیتن یاہو سمجھتے ہیں کہ ایران پر دباؤ کم کرنا اسرائیل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔