فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران ہر معاہدہ کرنے کے بعد یا تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے یا اس میں تبدیلی کی کوشش کرتا ہے، ایسے فریق پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک ایران اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا، ہر گزرتی رات اس کے لیے قیمت مزید بڑھتی جائے گی۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کی صنعتی تنصیبات امریکی حملوں کے نتیجے میں شدید متاثر ہو رہی ہیں اور ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔
Secretary of State Marco Rubio on Iran:
— World Source News (@Worldsource24) July 23, 2026
They are calling us every day, begging us for a deal.
Every time these people make a deal, they either break it or want to change it after making the deal.
They are probably not ready to do a deal yet, but they will be soon. pic.twitter.com/OjwDpQmHzz
یمن کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امید ہے حوثی کشیدگی میں کمی لائیں گے، کیونکہ وہ ایران کے بہکاوے میں آ گئے ہیں۔
سعودی عرب اور امریکا کے درمیان مجوزہ سول نیوکلیئر معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ معاہدے کو جلد امریکی کانگریس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے سعودی عرب کو امریکا کا اسٹریٹجک اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ جو ممالک پرامن سول جوہری پروگرام شروع کریں، وہ اس مقصد کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کریں۔
ایرانی قیادت کے آنکھ کے بدلے آنکھ کے مؤقف پر ردِعمل دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف آنکھ کے بدلے سر کا ہے اور ایران کو اپنی کارروائیوں کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ایران اپنی دولت ملکی ترقی کے بجائے حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر مسلح گروہوں کی حمایت پر خرچ کر رہا ہے، جب کہ اگر وہ چاہے تو مشرقِ وسطیٰ کا خوشحال ترین ملک بن سکتا ہے۔







