ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ آئندہ دو سے تین دن میں طے پا سکتا ہے۔

فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان کئی مشترکہ مفادات موجود ہیں، تاہم بعض معاملات میں دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کے اپنے اہداف ہیں، لیکن امریکا کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں جن کے نتیجے میں ایران کے ساتھ ایک ایسا جوہری معاہدہ ممکن ہو گیا ہے جو 2015 میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ہونے والے معاہدے سے بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایسا ماحول تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک طویل المدتی حل تک پہنچا جا سکتا ہے۔

امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ اب اسرائیل اسے پسند کرے یا نہ کرے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا معاہدہ امریکا کے مفاد میں ہے اور امریکی عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوگا۔