خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایرانی اہلکاروں کی جانب سے ایک بحری جہاز قبضے میں لینے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تزویراتی اہمیت رکھنے والی آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے عملاً آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جس کے باعث عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہوئی۔ چین ایران کا قریبی اتحادی اور اس کے تیل کا بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس تنازع میں اس کا کردار اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکہ نے گزشتہ ماہ ایران پر فضائی حملے روک دیے تھے، تاہم اس کی بندرگاہوں کا محاصرہ جاری رکھا گیا۔

جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے جب ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر حوالے کرنے سے انکار کیا۔

امریکی ٹی وی فاکس نیوز کے پروگرام ’ہینیٹی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، ’میں اب مزید صبر نہیں کروں گا، انہیں معاہدہ کر لینا چاہیے۔‘

خفیہ یورینیم ذخائر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ مواد زیادہ تر عوامی ساکھ کے مقصد کے لیے چاہیے۔

ٹرمپ نے کہا، ’مجھے نہیں لگتا کہ یہ پبلک ریلیشنز کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ضروری ہے، لیکن اگر یہ مجھے مل جائے تو میں بہتر محسوس کروں گا۔‘

دوسری جانب سمندری تجارتی راستوں پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

عمان کے ساحل کے قریب افریقہ سے متحدہ عرب امارات مویشی لے جانے والا ایک بھارتی مال بردار جہاز دھماکے کے بعد ڈوب گیا۔

بھارت نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جہاز کے تمام 14 عملے کے ارکان کو عمانی کوسٹ گارڈ نے بحفاظت بچا لیا۔

برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی ’وینگارڈ‘ کے مطابق جہاز کو ممکنہ طور پر میزائل یا ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

ادھر یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ کے قریب لنگر انداز ایک اور جہاز پر ’غیر مجاز افراد‘ کے سوار ہونے اور اسے ایران کی جانب لے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کو فوجی مرکز بنانے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق چینی صدر نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ چین ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کرے گا، جبکہ مستقبل میں اس راستے پر انحصار کم کرنے کے لیے امریکہ سے مزید تیل خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

امریکہ میں نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے تناظر میں ٹرمپ اس مہنگی اور غیر مقبول جنگ کے خاتمے کے لیے چینی تعاون چاہتے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین اپنے اہم سٹریٹجک اتحادی ایران پر زیادہ دباؤ ڈالنے سے گریز کرے گا۔

فی الحال دونوں ممالک ایک دوسرے کی تجاویز مسترد کر چکے ہیں جس کے باعث سفارتی عمل معطل ہے، البتہ ایران نے اپنی شرائط کے تحت چند چینی اور جاپانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے، جس سے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔