اطالوی سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ مناب میں ایک اسکول کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ نہایت افسوسناک اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دلخراش حملے میں کم عمر طالبات کی بڑی تعداد جان سے ہاتھ دھو بیٹھی، جو پوری دنیا کے لیے باعث تشویش اور ایک سنگین انسانی سانحہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد بے نقاب کیا جانا چاہیے،متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی اس مشکل وقت میں ایرانی عوام کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے ابتدائی دنوں میں مناب کے ایک اسکول کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 167 طالبات جاں بحق ہو گئیں۔ ایرانی حکومت نے اس حملے کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے حملے کی ذمہ داری ایران پر ڈال دی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ جنگ بندی کے لیے عالمی سطح پر رابطوں میں مصروف ہے: ایرانی جنرل
ادھر اسرائیلی حکام نے بھی اس حملے میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا ملوث ہونے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایسے واقعات خطے میں حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں،اگر فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو اس تنازع کے اثرات پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔







