سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ٹروتھ سوشل  پر جاری بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے صدر نے حال ہی میں جنگ بندی کی خواہش ظاہر کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنگ بندی پر غور اس وقت کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی اور محفوظ ہو جائے گی۔

امریکی صدر نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر شرائط پوری نہ ہوئیں تو امریکا ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ موجودہ صورتحال میں امریکا ایران کو  مکمل طور پر تباہ  کرنے یا اسے  پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے  کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی صدر کا یہ بیان اسرائیل کو کچھ زیادہ پسند نہیں آیا، کچھ مبصرین ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو ایک چال قرار دیتے ہیں کہ امریکہ ’بہت جلد‘ ایران سے نکل سکتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ ایک فریب کا حصہ ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں ایران اتنا چوکس نہ رہے اور اس پر زمینی حملہ کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی نیٹو اتحاد سے نکلنے کی دھمکی، امریکا کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟

تاہم مجموعی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسرائیل کو امریکہ کے جنگ سے جلد نکلنے کے امکان کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

اگرچہ اہم ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں اور تہران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، اس کے باوجود یہ مفروضہ موجود ہے کہ ایرانی حکومت خود کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کرے گی اور اسرائیل اور اس کے خلیجی عرب پڑوسیوں کے لیے خطرہ بنی رہے گی۔

اسرائیلی حکام یہ تجویز دے چکے ہیں کہ اس جنگ کے خاتمے کے بعد بھی اسرائیل ایران میں سٹریٹیجک حملے جاری رکھے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ نئے دفاعی تعلقات کے امکان کی بھی بات کی ہے، جنھیں حالیہ عرصے میں حملوں کا سامنا رہا ہے۔

اس وقت اسرائیل کے خلیج میں صرف متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات قائم ہیں۔

منگل کے روز ایک خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ’خطے میں مشترکہ ایرانی خطرے کے خلاف اہم ممالک کے ساتھ نئے اتحاد قائم کر رہا ہے۔‘