غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ صوبہ اصفہان میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے 30 اہلکار ہلاک ہوئے، جب کہ مغربی ایران کے صوبہ کرمانشاہ میں مزید 6 اہلکار جان سے گئے۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ملک بھر میں جاری مظاہروں کے دوران اب تک 109 سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مطابق صوبہ گلستان کے دارالحکومت گرگان میں اس کی ایک امدادی عمارت پر حملے کے دوران ایک عملے کا رکن ہلاک ہو گیا۔ سرکاری میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی کہ مشرقی ایران کے شہر مشہد میں ہفتہ کی رات ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی۔
خیال رہے کہ یہ ہلاکتیں ایسے وقت میں رپورٹ ہوئیں، جب ایرانی حکام حالیہ برسوں کے سب سے بڑے مظاہروں پر قابو پانے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں ہزاروں افراد مہنگائی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور شدید معاشی دباؤ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ ’فسادات‘ بتدریج کم ہو رہے ہیں، جب کہ اٹارنی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ بدامنی میں ملوث افراد کو سزائے موت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہفتے کے روز اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی نے بعض مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ لوگوں کو قتل یا زندہ جلانے جیسے اقدامات کر رہے ہیں جو داعش کے طرزِ عمل سے ملتے جلتے ہیں۔
تہران یونیورسٹی کے ماہرِ تعلیم حسن احمدیان نے الجزیرہ کو بتایا کہ دو ہفتے قبل شروع ہونے والے مظاہرے جمعرات کو پرتشدد ہو گئے، یہ ایران کے لیے حتیٰ کہ تہران میں بھی انتہائی خوفناک دنوں میں سے ایک تھا۔ گزشتہ دو دنوں میں ان سرگرمیوں میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ تشدد کی طرف جانے والے عناصر کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد بہت سے لوگ پرتشدد سرگرمیوں سے دور ہو گئے۔ اکثریت ایرانی معیشت سے خوش نہیں، مگر وہ تشدد کو بھی ناپسند کرتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو ایک انٹرویو میں معاشی منصوبوں اور ’عوامی مطالبات‘ پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں ’افراتفری اور بدامنی پھیلانا‘ چاہتے ہیں اور انہوں نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ ’فسادیوں اور دہشت گردوں‘ سے خود کو الگ رکھیں۔
اتوار کو پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر امریکا کو ’غلط اندازے‘ سے خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو مقبوضہ علاقے (اسرائیل) کے ساتھ ساتھ تمام امریکی اڈے اور بحری جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال ایران کو اسرائیل اور امریکا کے ساتھ 12 روزہ جنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب جون میں اسرائیل نے اچانک حملہ کیا اور بعد ازاں امریکا نے بھی ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں سینکڑوں شہری، فوجی کمانڈر اور سائنس دان مارے گئے تھے۔ جواباً ایران نے اسرائیلی شہروں پر سیکڑوں بیلسٹک میزائل داغے تھے، جن میں 28 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔
ایران میں حالیہ حکومت مخالف مظاہرے مغربی پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والے شدید معاشی بحران کا نتیجہ ہیں۔ یہ مظاہرے دسمبر کے آخر میں شروع ہوئے اور 2022–23 کی اس تحریک کے بعد سب سے بڑے قرار دیے جا رہے ہیں، جو حراست میں جاں بحق ہونے والی مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔
تہران سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نامہ نگار توحید اسدی نے کہا کہ قالیباف کے بیانات کم از کم لفظی طور پر کشیدگی کی ایک نئی سطح کی عکاسی کرتے ہیں، بعض ارکانِ پارلیمنٹ نے ایوان میں امریکا مردہ باد کے نعرے لگائے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکام مظاہرین اور ’فسادیوں‘ کے درمیان فرق ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جنہیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ’تخریب کار‘ قرار دے چکے ہیں، حکام یہ بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات حقیقی ہیں اور قالیباف نے پرامن احتجاج کو عوام کا حق قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکا ایران میں مظاہرین کی مدد کے لیے ’’تیار‘‘ ہے۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران شاید پہلے سے کہیں زیادہ آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان ایک دن قبل دی گئی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران ’بڑے مسئلے‘ میں ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ حملے کا حکم دے سکتے ہیں، اس کا مطلب زمینی افواج نہیں بلکہ بہت سخت ضرب لگانا ہے، وہاں جہاں سب سے زیادہ تکلیف ہو۔
🅱️REAKING: Tehran doctor via Starlink reports 217 killed by live ammunition across six hospitals in ongoing Iran protests
— 🅱️🅱️🅱️ (@badboibakademia) January 10, 2026
Security forces storming facilities, seizing bodies to conceal death toll
Amnesty International slams hospital incursions
Follow @badboibakademia https://t.co/WIXhlhW7LP
دوسری جانب ایران میں انٹرنیٹ کی ملک گیر بندش 60 گھنٹوں سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ انٹرنیٹ مانیٹر نیٹ بلاکس کے مطابق یہ سنسرشپ ’ایران کے مستقبل کے ایک نازک لمحے میں عوام کی سلامتی اور فلاح کے لیے براہِ راست خطرہ‘ ہے۔
ایرانی پولیس کے سربراہ احمد رضا رادان نے کہا ہے کہ فسادیوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ ایرانی فوج نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ وہ اسرائیل اور ’دشمن دہشت گرد گروہوں‘ کی جانب سے عوامی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا مقابلہ کرے گی، سپریم کمانڈر اِن چیف کی قیادت میں فوج قومی مفادات، اسٹریٹجک تنصیبات اور عوامی املاک کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ناروے میں قائم این جی او ’ایران ہیومن رائٹس‘ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 51 مظاہرین جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 9 بچے بھی شامل ہیں، جب کہ سینکڑوں زخمی اور بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی گئی ہیں۔







