صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں لکھا کہ اگر ایران نے پُرامن مظاہرین پر تشدد کیا یا انہیں ہلاک کیا تو امریکا ان کی مدد کے لیے آگے آئے گا۔ امریکا کسی بھی اقدام کے لیے “لاکڈ اینڈ لوڈڈ” ہے۔

امریکی صدر کے اس بیان پر ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ ایران کے داخلی احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت پورے خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ امریکا کی مداخلت نہ صرف خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرے گی بلکہ خود امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچائے گی۔ علی لاریجانی نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل مظاہروں کو ہوا دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ کئی روز سے مہنگائی، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف ملک بھر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک کم از کم 7 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ متعدد افراد زخمی اور درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صوبہ لورستان کے شہروں لوردگان اور ازنا میں جھڑپوں کے دوران تین، تین افراد ہلاک ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر مظاہرین نے پولیس ہیڈکوارٹرز پر حملے بھی کیے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور کئی اہلکار زخمی ہوئے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ازنا میں مشتعل افراد نے پولیس اسلحہ خانے پر قبضے کی کوشش بھی کی۔

دوسری جانب مظاہروں میں مارے جانے والوں کی تدفین بھی نئے احتجاجی مراکز میں تبدیل ہو رہی ہے، جہاں سخت سکیورٹی کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ جمعرات کی شب ایک درجن سے زائد شہروں میں مظاہرین نے حکومت اور ایرانی قیادت کے خلاف نعرے لگائے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اعتراف کیا ہے کہ کرنسی کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر کے باعث حکومت کے پاس فوری حل محدود ہیں۔ ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی کے بعد ایک امریکی ڈالر کی قیمت 13 لاکھ 40 ہزار ریال تک پہنچ چکی ہے۔

حالیہ مظاہروں کو ایران میں 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاج کے بعد سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس بار احتجاج کی بنیاد معاشی مسائل ہیں جو تیزی سے حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو رہے ہیں۔