ایک انٹرویو میں دیمتری میدودیف کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے سے امریکا اور اسرائیل نے نہ صرف خطے کو غیر مستحکم کیا بلکہ اپنے ہی شہریوں کو زیادہ خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ان حملوں کو برداشت کر لے گا، تاہم اس اقدام نے ایرانی قوم کو مزید متحد کر دیا ہے اور اب تہران دگنی رفتار سے اپنے دفاعی اور ممکنہ جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا۔
ٹرمپ نے ایران میں رجیم چینج کا پاگل پن ترک نہ کیا تو تیسری عالمی جنگ ہوگی: روسhttps://t.co/cQogf0VAh4
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) March 3, 2026
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ جنگ دراصل امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عالمی سطح پر اپنا غلبہ برقرار رکھنے کی کوشش ہے، ایران میں رجیم چینج کی پالیسی انتہائی خطرناک ہے اور کوئی بھی معمولی واقعہ عالمی جنگ کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔
میدودیف نے یورپی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ روس کے ساتھ جوہری تصادم کی قیمت کیا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نیوکلیئر تنازع ہوا تو اس کے اثرات ہیروشیما اور ناگاساکی پر ہونے والے حملوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوں گے۔
روسی بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری ممکنہ وسیع جنگ کے خدشات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق روس کا یہ سخت مؤقف عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی صف بندی کی عکاسی کرتا ہے، جو کسی بڑے تصادم کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے، بصورت دیگر خطہ ایک وسیع اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔







