صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے طویل عرصے تک اپنے عوام کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عوام کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کی ممکنہ مداخلت کا مطلب ایران میں فوجی کارروائی یا افواج اتارنا نہیں ہوگا، تاہم انسانی جانوں کے ضیاع کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت شدید بحران کا شکار ہے اور انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض ایرانی شہروں میں حکومت کی گرفت کمزور پڑ چکی ہے اور عوامی کنٹرول بڑھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ میں کچھ نہ کیا تو روس اور چین اس پر قبضہ کر لیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب انہوں نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت سمیت مختلف ممالک کے درمیان آٹھ جنگیں رکوانے میں کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت تنازع کے دوران آٹھ طیارے مار گرائے گئے، جبکہ پاکستانی وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ صدر ٹرمپ کی کوششوں سے ایک کروڑ سے زائد جانیں بچائی گئیں۔
واضح رہے کہ ایران میں جاری پُرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاکتوں سے متعلق مختلف بین الاقوامی ذرائع سنگین خدشات کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر تشویش میں مبتلا ہے۔







