غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان نے مبینہ طور پر ایران کے سپریم لیڈر کے دفتر کو اپنا استعفیٰ ارسال کیا ہے،صدر نے حکومتی معاملات اور اہم ریاستی فیصلوں میں محدود کردار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ صدر پزشکیان نے اپنے مبینہ خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ملک کے اہم فیصلوں میں منتخب حکومت اور بعض اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ فیصلہ سازی کا مرکز دیگر طاقتور ادارے بنتے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران کو درپیش سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کے باعث حکومتی پالیسیوں پر مختلف حلقوں میں اختلافِ رائے سامنے آیا ہے، خطے میں کشیدگی اور اس کے معاشی اثرات نے ایرانی حکومت پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹس میں یہ تاثر بھی دیا گیا کہ صدر پزشکیان اور بعض بااثر حلقوں کے درمیان پالیسی امور پر اختلافات موجود ہیں، خصوصاً معیشت، خارجہ پالیسی اور حالیہ علاقائی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

تاہم دوسری جانب ایرانی صدارتی دفتر اور سرکاری ذرائع نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق صدر مسعود پزشکیان اپنے معمول کے سرکاری فرائض انجام دے رہے ہیں اور استعفے سے متعلق گردش کرنے والی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر روزمرہ حکومتی سرگرمیوں، اجلاسوں اور انتظامی امور میں بدستور مصروف ہیں، جبکہ بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے ذریعے ملک کی سیاسی صورتحال کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ  جب تک ایرانی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آتا، صدر کے استعفے سے متعلق خبروں کو محض قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ رپورٹس کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ مسعود پزشکیان نے گزشتہ صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد اصلاحات، معاشی بہتری اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنے کے وعدوں کے ساتھ اقتدار سنبھالا تھا۔ حالیہ خبروں کے بعد ایران کی داخلی سیاست پر ایک بار پھر عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہو گئی ہیں۔