امریکی میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطے برقرار ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، سفارتی ذرائع کو کھلا رکھا گیا ہے تاکہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جا سکے، تاہم ابھی تک ایسی پیش رفت سامنے نہیں آئی جس سے کسی جامع معاہدے کی امید پیدا ہو۔
صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے سعودی عرب بھی معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بنے، کیونکہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ سعودی عرب کی شمولیت خطے میں سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
"What is the exit strategy?"
— Fox News (@FoxNews) July 24, 2026
Asked by @pdoocy about Iran, Trump says the U.S. has two choices: keep escalating military pressure or negotiate a deal.
He says the U.S. is speaking with Iran "as we speak," adding that Tehran wants a deal — even if their leaders don t want to… pic.twitter.com/vEvxOIPHDB
انہوں نے واضح کیا کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل نہیں ہوتا تو امریکہ کی جانب سے کسی ممکنہ جوہری معاہدے کے حوالے سے بھی پیش رفت مشکل ہو سکتی ہے، خطے میں وسیع تر سفارتی حکمتِ عملی اور مختلف معاہدے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ہر معاملے کو مجموعی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں کینیڈا کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اور دیگر متعلقہ معاملات کے باعث کینیڈا کی بعض مصنوعات پر بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور تجارتی پالیسی میں قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: 37.5 ارب ڈالر کی جنگ، امریکا نے ایران کے خلاف کہاں اور کیسے اتنی بڑی رقم خرچ کی؟
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ایران، مشرقِ وسطیٰ اور تجارتی معاملات کے حوالے سے اپنی پالیسی میں سخت مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں ان موضوعات پر مزید پیش رفت سامنے آنے کا امکان بھی موجود ہے۔







