رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے جنگ بندی مذاکرات سے متعلق نیا مسودہ جمعرات کی شام پاکستان کے حوالے کیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی ایرنا کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پیش کی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں تہران اور واشنگٹن کے وفود کے درمیان مذاکرات کا ایک دور منعقد ہوا تھا، تاہم متعدد کوششوں کے باوجود مذاکرات کا دوسرا دور تاحال نہیں ہو سکا۔
Iran has delivered a new proposal for talks with US via mediator Pakistan – Iranian state media pic.twitter.com/IGhrHgTDAE
— TRT World (@trtworld) May 1, 2026
اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری بات چیت میں پاکستان باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں کئی ممالک تعاون کے لیے تیار ہیں، تاہم مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا جنگی اخراجات اور نقصانات کے حوالے سے حقائق چھپا رہا ہے۔ ان کے مطابق پینٹاگون ایران کے ساتھ جنگ میں ہونے والے اپنے اصل نقصانات اور اخراجات کو عالمی برادری اور اپنے عوام سے پوشیدہ رکھ رہا ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں نے امریکا کو شدید معاشی نقصان پہنچایا ہے، جس کا تخمینہ 100 ارب ڈالر سے زائد لگایا جا رہا ہے۔







