ایرانی عدلیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے میزان کے مطابق ملزم پر الزام تھا کہ وہ ایران کے حساس سرکاری اداروں کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرنے اور حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش میں ملوث تھا۔
میزان کے مطابق بہمن چوبی اصل کو موساد نے بھرتی کیا تھا تاکہ وہ ایران کے اہم ڈیٹا سینٹرز میں نفوذ کر سکے۔
اس کے علاوہ اس پر یہ بھی الزام تھا کہ وہ موساد کو الیکٹرانک آلات کی درآمد کے راستوں کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا تھا۔
ایرانی سپریم کورٹ نے ملزم کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا۔ عدالت نے اسے زمین پر فساد پھیلانے کے جرم میں قصوروار قرار دیا۔
یہ واقعہ ایران میں اسرائیل کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں دی جانے والی پھانسیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔
رواں برس ایران میں اس الزام کے تحت سزائے موت پانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف چند مہینوں میں کم از کم 10 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان خفیہ محاذ آرائی اس وقت کھل کر سامنے آئی جب اسرائیل نے ایرانی سرزمین پر کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔
ان کارروائیوں میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے کمانڈوز کو ایران کے اندر کارروائیاں انجام دینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
واضع رہے کہ تاحال ایرانی حکومت یا متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اس پھانسی پر کوئی علیحدہ باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق اسرائیلی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ مستقبل قریب میں ایسے مزید اقدامات متوقع ہیں۔







