بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آبنائے ہرمز میں پیش آنے والا واقعہ ہرگز قابل قبول نہیں لگا،  حملے کے دوران تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کے لیے چار ڈرونز استعمال کیے گئے، جن میں سے تین کو بروقت ناکارہ بنا دیا گیا، تاہم ایک ڈرون جہاز سے ٹکرا گیا، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے اور ایران کے اس اقدام پر ردعمل کے حوالے سے فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائے گا، اگرچہ کسی ممکنہ فوجی یا سفارتی اقدام کی تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم ان کے بیان سے واضح اشارہ ملا کہ واشنگٹن تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز کے قریب پیش آیا، جہاں بین الاقوامی تجارت اور تیل بردار جہازوں کی بڑی تعداد روزانہ گزرتی ہے۔ اس حملے کے بعد عالمی جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور خطے کی مجموعی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں اور مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایسے حملے اعتماد سازی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی بھی حملے کو نظر انداز نہیں کرے گا، اگر ایران کو کسی معاہدے یا مفاہمتی یادداشت پر تحفظات ہیں تو انہیں سفارتی ذرائع سے اٹھایا جانا چاہیے، نہ کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے۔ ان کے مطابق امریکا مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، لیکن تشدد کا جواب مؤثر انداز میں دیا جائے گا۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور آزاد بحری نقل و حرکت کے اصول کا حامی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے اور کسی بھی ملک کو اس راستے پر غیر قانونی طور پر فیس، ٹول یا دیگر پابندیاں عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے ڈرون حملے جنگ بندی کی احمقانہ خلاف ورزی ہیں، ٹرمپ

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ دنیا کی تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس حساس بحری راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی کی قیمتوں، بحری تجارت اور بین الاقوامی منڈیوں پر بھی براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ واقعے نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی فراہمی اور خطے کے امن و استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔