رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے موبائل نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کرکے امریکی فوجیوں اور کنٹریکٹرز کی سرگرمیوں پر نظر رکھی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق خلیجی ممالک کے بعض حکام کو شبہ ہے کہ ایران یا اس کے اتحادیوں نے مقامی موبائل کمپنیوں کے درمیان موجود بین الاقوامی رومنگ معاہدوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی اہلکاروں کے مقامات معلوم کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس انکشاف پر امریکی قانون سازوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی رومنگ سسٹم اور اسمارٹ فونز کی اشتہاری ٹیکنالوجی امریکی فوجیوں کو نگرانی اور ممکنہ حملوں کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔
اخبار کے مطابق جنگ کے دوران ایران اور ایران نواز ملیشیاؤں نے عراق، بحرین اور خلیج کے دیگر علاقوں میں متعدد ہوٹلوں کو بھی نشانہ بنایا، جہاں بعض حملوں میں امریکی کنٹریکٹرز اور فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔
US military targeted in Iran war phone-tracking campaign https://t.co/HN1faBkwCO
— Financial Times (@FT) July 14, 2026
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بحرین کے منامہ کراؤن پلازا ہوٹل پر بھی ایک میزائل گرا، جہاں امریکی محکمہ دفاع کو رہائش، لانڈری اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے معاہدے موجود تھے۔
تاہم سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مخصوص حملوں کو براہِ راست ڈیجیٹل نگرانی سے جوڑنے کے لیے مزید تحقیقات درکار ہیں، کیونکہ اہداف کے تعین کے لیے انسانی مخبروں، ہوٹلوں کے آن لائن ریویوز اور سوشل میڈیا پوسٹس سمیت دیگر ذرائع بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
سابق سی آئی اے اہلکار مائیکل اسٹوکس کے مطابق کسی شخص کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے اس کا فون ہیک کرنا ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ اسمارٹ فونز بڑی مقدار میں ذاتی معلومات خارج کرتے ہیں، جنہیں وہ ڈیجیٹل اخراج قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق اسی ڈیٹا کی مدد سے کسی فرد کے مقام، روابط اور یہاں تک کہ اس کی روزمرہ نقل و حرکت کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے سرکاری ملازمین حساس مشنز کے لیے مخصوص محفوظ فون استعمال کرنے کے بجائے اپنے ذاتی اسمارٹ فونز استعمال کرتے ہیں یا دونوں فون ساتھ رکھتے ہیں، جس سے ان کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کے نشانات باقی رہ جاتے ہیں اور نگرانی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔






