ایرانی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم جنگ کے خاتمے کیلئے چند بنیادی نکات پر عمل ضروری ہے، سب سے پہلے ایران کے جائز اور قانونی حقوق کو تسلیم کیا جانا چاہیے، دوسرے مرحلے میں جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے مناسب معاوضہ ادا کیا جائے اور تیسری شرط کے طور پر مستقبل میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کیلئے مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس حوالے سے مختلف عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں، ایران نے روس اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ بھی گفتگو کے دوران امن کے قیام کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ جنگ کی ابتدا اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئی،اگر اس تنازع کے بنیادی اسباب کو تسلیم کرتے ہوئے انصاف پر مبنی حل تلاش کیا جائے تو خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
ایران نے عالمی توانائی منڈی کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں،آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر ہونے نہیں دیا جائے گا اور اس مقصد کیلئے ضروری سکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: ایران کا بحری و فضائی دفاعی نظام تباہ، جب چاہوں جنگ ختم کر سکتا ہوں: ڈونلڈ ٹرمپ
ادھر خطے میں کشیدگی کے باعث عراق کی جنوبی بندرگاہ الفاو بندرگاہ کے قریب دو غیر ملکی آئل ٹینکروں پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، واقعے کے بعد بندرگاہ کے اطراف سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
اسی دوران خلیجی ممالک کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون مار گرائے ہیں، یہ اقدامات دفاعی نوعیت کے تھے اور خطے میں بڑھتے خطرات کے پیش نظر کیے گئے۔
علاوہ ازیں خطے میں عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔
واضع رہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یہ تنازع مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور سکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔







