ایک پاکستانی ذریعے نے کہا کہ دونوں فریق “مسلسل اپنی شرائط تبدیل کر رہے ہیں” اور وقت بہت کم بچا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ تہران کا مؤقف “پاکستان کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچایا گیا”، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق نئی تجویز میں ابتدائی توجہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر عائد بحری پابندیوں کے خاتمے پر دی گئی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کا اہم راستہ ہے جسے ایران نے مؤثر طور پر محدود کر رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی جیسے حساس معاملات کو بعد کے مذاکراتی مراحل کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ایرانی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایرانی منجمد اثاثوں کا ایک چوتھائی حصہ جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جن کی مالیت دسیوں ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ایران تمام اثاثوں کی مکمل بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اسی ذریعے کے مطابق واشنگٹن نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ایران کو محدود پرامن جوہری سرگرمیوں کی اجازت دینے کے معاملے پر بھی نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران ایران پر عائد تیل پابندیوں میں نرمی پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس رپورٹ پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔

دوسری جانب چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے، جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے بعد ہوا تھا۔ تاہم پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی کو “انتہائی نازک حالت” میں قرار دے چکے ہیں۔

امریکا پہلے ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی بحال کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔

ادھر ایران جنگی نقصانات کے ازالے، ایرانی بندرگاہوں کے امریکی محاصرے کے خاتمے اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جہاں اسرائیل ایران نواز حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ “وقت تیزی سے گزر رہا ہے” اور ایران کو فوری پیش رفت کرنا ہوگی، ورنہ “ان کے پاس کچھ نہیں بچے گا”۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ منگل کو قومی سلامتی کے اعلیٰ مشیروں سے ملاقات کریں گے، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے آپشنز پر غور کیا جائے گا۔